Friday, September 26, 2025

Live TV & News — Official Streams

Click a channel to load its official live stream (YouTube if available).
Select a channel to load the official live stream.
Legal note: This widget embeds only official broadcaster streams. Do not use or request pirated streams. If a stream is not live or the broadcaster blocks embedding, use the official live page link.

Wednesday, March 26, 2025

All Video Downloader

 

All Video Downloader - Download Videos from Social Media

All Video Downloader

Download videos from Facebook, TikTok, Instagram, WhatsApp & YouTube

HD Quality

Download videos in highest available quality

Mobile Friendly

Works perfectly on all devices

Safe & Secure

No registration required

© 2023 All Video Downloader. Free online video download tool.

Disclaimer: We respect copyright laws. Only download videos you have rights to.

Sunday, March 16, 2025

 

News Ticker

Wednesday, September 9, 2020

Add

 <script type="text/javascript">

atOptions = {

'key' : 'fa1c34f1ef17a994669592792cecb4c9',

'format' : 'iframe',

'height' : 60,

'width' : 468,

'params' : {}

};

document.write('<scr' + 'ipt type="text/javascript" src="http' + (location.protocol === 'https:' ? 's' : '') + '://www.displaynetworkprofit.com/fa1c34f1ef17a994669592792cecb4c9/invoke.js"></scr' + 'ipt>');

</script>

Friday, July 31, 2020

بچوں پر سیسے کے زہریلے اثرات: متاثرہ ممالک میں پاکستان بھی شامل

بچوں پر سیسے کے زہریلے اثرات: متاثرہ ممالک میں انڈیا سر

فہرست جبکہ پاکستان تیسرے نمبر پر
بعض مصالحے جن میں نقصان دہ اشیا شامل کی جاتی ہیں، عمارتوں پر کیے جانے والے رنگ اور بعض کھلونے بھی وہ ذرائع ہیں جو سیسے کے زہریلے اثرات پھیلانے کا سبب ہیں۔
لیڈ یا سیسے کے زہریلے اثرات کے بارے میں عالمی سطح پر ایک نئی تحقیق کے مطابق سیسے سے متاثر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر جبکہ انڈیا پہلے نمبر پر ہے۔
یہ رپورٹ بچوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف اور پیور ارتھ نامی ادارے نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک بچہ سیسے کے زہریلے اثرات کا شکار ہے جس سے ان کی صحت کو ناقابلِ علاج نقصان پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 80 کروڑ بچے سیسے سے متاثر ہیں جن کی زیادہ تعداد ترقی پذیر ممالک میں ہے۔ اس سے پہلے اس مسئلے کو اتنے بڑے پیمانے پر نہیں دیکھا گیا۔
پاکستانی بچوں اور ماؤں کی خوراک میں سیسہ کی بڑھتی مقدار
’استعمال شدہ‘ کھلونے بچوں کے لیے نقصان دہ
سیسے سے متاثر بچوں کی عالمی تعداد کا لگ بھگ نصف جنوبی ایشیا میں ہے جبکہ پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد چار کروڑ دس لاکھ سے زیادہ ہے۔
اس رپورٹ میں یونیورسٹی آف واشنگٹن کے انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلوویشن کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا ہے۔
سیسے کے زہریلے اثرات بچوں کے دماغ، اعصابی نظام، دل، پھیپھڑوں اور گردوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیسہ ایک نیورو ٹوکسن ہے جس کی بہت کم مقدار بھی ذہانت میں کمی، متوجہ ہونے کے وقت میں کمی اور زندگی میں آگے چل کر پرتشدد اور مجرمانہ رویے کا باعث ہو سکتی ہے۔
'رحمِ مادر سے لے کر پانچ برس کے بچوں کو زندگی بھر کے لیے دماغی امراض اور جسمانی معذوریوں اور یہاں تک کے ہلاک ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔'
سیسے کے زہر سے متاثر دوسرا بڑا خطہ افریقہ ہے جہاں نائجیریا سب سے زیادہ متاثر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا پہلے نمبر پر جبکہ نائجیریا، پاکستان اور بنگلہ دیش دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔
سیسے سے متاثر کرنے والی اشیاء
رپورٹ کے مطابق ایسی بیٹریوں کی ری سائیکلنگ جن میں سیسے کا تیزاب استعمال ہوتا ہے سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ جبکہ ای ویسٹ یعنی استعمال شدہ الیکٹرانک اشیا بعض مصالحے جن میں نقصان دہ اشیا شامل کی جاتی ہیں، عمارتوں پر کیے جانے والے رنگ اور بعض کھلونے بھی وہ ذرائع ہیں جو سیسے کے زہریلے اثرات پھیلانے کا سبب ہیں۔
رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک نیکولس ریس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'سنہ 2000 سے اب تک ترقی پزیر اور غریب ممالک میں گاڑیوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے لیڈ ایسڈ بیٹریوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا کام بھی بہت بڑھا ہے۔ ایسا اکثر غیر محفوظ طریقے سے کیا جاتا ہے۔'
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں تیار ہونے والے سیسے کا 85 فیصد بیٹریاں بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے جن میں سے زیادہ تر گاڑیوں کی دوبارہ استعمال شدہ بیٹریوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔
'اس طرح استعمال شدہ لیڈ ایسڈ بیٹریوں کا لگ بھگ نصف حصہ غیر دستاویزی معیشت میں شامل ہو جاتا ہے۔'
پاکستان میں سنہ 2017 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں حاملہ خواتین اور بچوں کے خون میں سیسے کی بڑی مقدار کے بارے میں اعداد و شمار سامنے آئے تھے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خوراک، گھروں میں موجود گرد اور سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والی گرد حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کے خون میں سیسے کی بڑھی ہوئی سطح کی بڑی وجوہات ہیں۔
دو سال قبل پاکستان ہی میں ہونے والی ایک دوسری تحقیق میں عمارتوں پر کیے جانے والے رنگوں میں لیڈ یعنی سیسے کی بڑی مقدار کے بارے میں حقائق سامنے آ چکے ہیں۔
غیر سرکاری ادارے سسٹینیبل ڈولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ سے منسلک ڈاکٹر عمران خالد کہتے ہیں کہ 'رنگوں میں سیسے کی مقدار کو محدود کرنے والے ضوابط کے باوجود ہمیں اپنی تحقیق کے دوران سیسے کی ضرورت سے بہت زیادہ مقدار ملی۔'
انھوں نے کہا کہ پینے کے پانی میں سیسے کی موجودگی بھی ایک مسئلہ ہے۔
'صنعتی فضلہ زیرِ زمین پانی کو آلودہ کر رہا ہے اس کے علاوہ پانی سپلائی کرنے والے پائپوں میں بھی سیسہ شامل ہے۔'
جنوبی ایشیا میں سیسے کی آلودگی کی ایک وجہ وہ انورٹر ہیں جو لوگ بجلی کی عدم فراہمی کے باعث استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ گھروں میں اکثر بجلی معطل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے انورٹر خریدے ہوئے ہیں جس سے بجلی حاصل کی جاتی ہے۔
لکھنؤ میں کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے بائیو کمسٹری ڈپارٹمنٹ سے منسلک ڈاکٹر عباس مہدی کہتے ہیں 'اترپردیش میں ہمیں معلوم ہوا ایک بچے کی بیماری کی وجہ ایک انورٹر سے سیسے کا رِسنا تھا۔ بچے کے والدین کو معلوم نہیں تھا کہ گھر میں کام کرنے والی نوکرانی انورٹر سے ٹپکنے والے پانی کو کپڑے سے صاف کرتے ہوئے پورے فرش پر پھیلا دیتی تھی اور اُسی فرش پر وہ بچہ کھیلتا رہتا تھا۔
یونیسف کے مطابق پاکستان میں چار کروڑ دس لاکھ بچوں کے خون میں سیسے کی سطح پانچ مائکرو گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ ہے۔ جبکہ عالمی ادارۂ صحت کے معیار کے مطابق یہ تشویشناک سطح ہے۔
بچوں کو خطرہ کیوں ہے؟
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ ان کے دماغوں کو پوری طرح نشو نما پانے سے پہلے ہی اتنا نقصان پہنچ سکتا ہے کہ وہ تمام عمر کے لیے ذہنی معذوریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم کے وزن کے تناسب سے بچے بڑوں کے مقابلے میں خوراک، مائع اور ہوا کا استعمال پانچ گنا زیادہ کرتے ہیں۔
نیکولس ریس کہتے ہیں 'اس کا مطلب ہے کہ وہ اس زھر کو بھی زیادہ استعمال کر سکتے ہیں اگر یہ مٹی اور ہوا میں شامل ہے اور ایسی جگہ پر موجود ہے جہاں بچے بھی ہیں۔'
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے سیسے سے متاثر ہونے کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کی علامات عموماً بڑے ہونے تک سامنے نہیں آتیں۔
ڈاکٹر مہدی کا کہنا ہے کہ اس بارے میں آگہی کا فقدان بھی ایک مسئلہ ہے۔

Friday, July 3, 2020

ان کہی باتیں سمجھنے کا فن عام زندگی میں کتنا اہم ہوتا ہے؟

ان کہی باتیں سمجھنے کا فن عام زندگی میں کتنا اہم ہوتا ہے؟
جب آپ کسی شاپنگ مال یا دفتر کی ایسکلیٹر (خود کار سیڑھیاں) پر چڑھتے ہیں تو کیا آپ دوسروں کے لیے راستہ چھوڑ کر ایک طرف کو کھڑے ہو جاتے ہیں؟ اگر کوئی یہ کہے کہ کمرے میں بہت گرمی ہے تو کیا آپ کھڑکی کھول دیں گے؟ اگر آپ کسی کو ڈیٹ پر مدعو کریں اور وہ آپ کا منہ تکتا رہے تو کیا آپ یہ دعوت واپس لے لیں گے؟
اگر آپ ایسا کچھ نہیں کرتے تو آپ کے لیے بری خبر ہے: آپ کو حالات کو بھانپنے کا فن نہیں آتا۔
معاشرے میں زندگی کے اس طرح کے ان کہے ضابطوں کو جاننے کے لیے اپنے ماحول کو مربوط طریقے سے سمجھنا ضروری ہے، چاہے آپ کہیں بھی ہوں۔
اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ دنیا میں کہا رہتے ہیں، یہ ایک بیش قیمت ہنر ہے۔ تاہم جاپان میں، جہاں ویسے بھی لوگوں کے درمیان رابطے روائتی اور براہ راست کم ہوتے ہیں، وہاں اسے ایک الگ ہی درجہ حاصل ہے۔
حالات کو بھانپ لینا یا صورتحال کو سمجھنے کے فن کو جاپانی زبان میں میں جاپانی میں ’کوکی او یومو‘ کہتے ہیں۔ جاپان میں یہ ایک مسلسل عمل ہے، کہیں بزنس ڈیل ہو یا رشتہ، سب تباہ ہو سکتا ہے۔
جاپان میں اس ہنر کا عمل دخل چہروں کو پڑھنے والی فیشیل ریکگنیشن ٹیکنالوجی سے لے کر ویڈیو گیمز تک، یعنی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں ہوتا ہے۔
اس میں کسی حد تک ’خود کو دوسرے کی جگہ‘ رکھ کر سوچنا شامل ہے جسے جاپانی میں شینوبو کیتایاما کہا جاتا ہے۔

کمرے میں موجود لوگوں کے ’احساسات پڑھنا‘

پچھلے برس جاپان میں ایک ٹویٹ وائرل ہو گئی تھی؛ کیوٹو میں ایک تاجر کام کے سلسلے میں ایک شخص سے ملا۔ کچھ دیر بعد اس شخص نے تاجر کی گھڑی کی تعریف کی۔ پہلے تو تاجر گھڑی کی خصوصیات بتانے لگا لیکن پھر اسے احساس ہوا کہ وہ شخص دراصل یہ چاہتا تھا کہ تاجر اپنی گھڑی دیکھے، اسے وقت کا احساس ہو اور وہ میٹنگ ختم کرے۔
روشیل کوپ مختلف ثقافتوں کے درمیان رابطوں کے لیے ایک ٹریننگ فرم چلاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ویسے تو ہر قوم میں کسی نہ کسی حد تک بلا واسطہ رابطہ ہوتا ہے لیکن جاپان میں اس کے بغیر گزارا نہیں، یعنی آپ یہ کر پائیں گے پورا معاشرہ آپ سے یہ توقع کرتا ہے۔
یوکو ہاسیگاوا یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں جاپانی زبان کی پروفیسر ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہوا کے ذریعے انسان کو پڑھنے کے لیے وسیع ثقافتی، تاریخی اور ذاتی معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ’دو لوگ جو دراصل ایک دوسرے کے دشمن ہوں مگر بظاہر ایک دوسرے کی تعریف کر رہے ہوں۔ ایسے میں اگر آپ ان کے درمیان موجود غیر روائتی گفتگو کو نہیں پڑھ پائے تو آپ کچھ ایسا کہہ سکتے ہیں جس سے بات اور بگڑ جائے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ میں یہاں امریکہ میں اسی وجہ سے اکثر سماجی محفلوں میں حالات کو بھانپنے میں ناکام رہتی ہوں۔‘
مثال کے طور پر جاپان میں اگر آپ ٹرین کے خاموش ڈبے میں زور زور سے بات کر رہے ہیں یا اس کلائینٹ سے بات کیے جا رہے ہیں جسے آپ کی بات میں کوئی دلچسپی نہیں تو بہت ممکن ہے کہ لوگ آپ کو تضحیک سے ’کے وائی‘ یعنی ’کوکی گائےومینائی‘ بلائیں گے۔ بول چال کی زبان میں اس کا مطلب ہے ’وہ جسے ہوا کو پڑھنا نہیں آتا۔‘ یعنی وہ کسی بھی صورتحال میں حالات کو بھانپنے سے قاصر ہے۔
یونیورسٹی آف میشیگن میں پروفیسر اور جرنل آف پرسنیلیٹی اینڈ سوشل سائیکالوجی کی مدیر شینوبو کٹایاما کہتی ہیں کہ ’ہر گروپ میں ایسے کچھ لوگ ہوتے ہیں جو کے وائی کہلانے لگتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’کئی دفعہ چند اداروں میں آپ کو اہم موضوعات پر بات چیت سے الگ کیا جاتا ہے۔ کئی بار اسی وجہ سے سکول میں آپ کو ہراساں کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کو ہوا کا رخ سمجھنے میں دقت ہوتی ہے تو یہ آپ کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔‘

چہرے کی چھوٹی سے چھوٹی جنبش کو سمجھنا

ڈیوڈ ماسوموٹو سین فرینسسکو سٹیٹ یونیورسٹی میں سائکالوجی کے پروفیسر ہیں اور بین الثقافتی اور نان وربل رابطوں یعنی غیر روائیتی یا غیر لفظی گفتگو کے ماہر ہیں۔ وہ مائیکرو ایکسپریشنز یعنی وہ ہلکے تاثرات یا عادات جو ایک شخص کے اصل جذبات کی عکاسی کرتے ہیں کو سمجھنے کی ماہرت رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی آپ سے یہ کہے کہ وہ آپ کے کام سے بہت خوش ہیں لیکن یہ کہتے ہوئے ان کے ہونٹ یا بھویں ہلکے سے ہلیں تو اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ شاید وہ پورا سچ نہ بول رہے ہوں۔ کسی بھی صورت حال میں باتوں کے علاوہ مائیکرو ایکسپریشنز اور نان وربل کمیونیکیشن یعنی وہ جو کہا نہیں جاتا بہت ہی اہم ہوتے ہیں۔
ماٹسوموٹو کہتے ہیں کہ ’خاموشی خود ایک طرح کی زبان ہے۔ آپ کے بیٹھنے کا انداز۔ مسکراہٹ۔ یہ سب اس پیکیج کا حصہ ہیں جس کے ذریعے آپ بنا کچھ کہے بہت کچھ سمجھ سکتے ہیں۔‘
ماٹسوموٹو کی طرح محقق کنجی شیمیزو بھی ٹوکیو کے ضلع تورانومون میں ایک ایسی کمپنی چلاتے ہیں جہاں لوگوں کو مائیکرو ایکسپریشنز اور نان وربل مواصلات کے بارے میں سکھایا جاتا ہے۔ ان کے گاہکوں میں زیادہ تر جاپانی کمپنیز اور حکومتی ادارے شامل ہیں۔ شیمزو ایک امریکی سائیکالوجسٹ پال ایکمین کا تیار کردہ نظام استعمال کرتے ہیں۔ پال ایکمین نے چہرے کے بدلتے تاثرات کے لیے ’غیر رضاکارانہ جذباتی لیکیج‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا۔
شیمزو اپنے کلائینٹس کو تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے سکھاتے ہیں کہ کن چیزوں پر نظر رکھی جانی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کئی بار ایسا ہوتا کہ کوئی اپنے اصل جذبات کو مسکراہٹوں میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہو لیکن ایسے میں بھی ان کے چہرے کے تاثرات کو باریکی سے پڑھ کر (مثلا کیا وہ اپنے ہونٹ دبا رہے ہیں، یا ان کی بھویں جھک رہی ہیں، یا وہ ناک چڑھا رہے ہیں) آپ کو ان کی اصل خواہشات کا اندازہ ہو سکتا ہے اور آپ بہتر انداز میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔‘
ویڈیو گیمنگ
اس سب کے باوجود باڈی لینگویج کو سمجھنا ’ہوا کو پڑھنے‘ کے فن کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی صورت حال کے پس منظر کو سمجھنا بھی اہم ہے۔ خاص طور پر جاپان جیسے ملک میں، جہاں ہر بات لفظوں میں بیان نہیں کی جاتی، اشاروں میں سمجھائی اور سمجھی جاتی ہے۔
یہ سب جاپانی معاشرے کا اتنا اہم حصہ ہے کہ اس بارے میں ایک ویڈیو گیم بھی بنی ہے۔ پچھلے ماہ ’کووکیومی: کنسیڈر اِٹ‘ نامی ویڈیو گیم کو نینٹینڈو سویچ کے لیے ریلیز کیا گیا۔ اس گیم میں لوگوں کو ایک سو نازک حالات میں ڈالا جاتا ہے اور ان کی ہوا کو پڑھنے یعنی ان کہی باتوں کے ذریعے حالات کو سمجھنے کی صلاحیت کے حساب سے پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔ مثلاً آپ ایک ٹرین میں بیٹھے ہیں اور آپ کے بغل والی سیٹ خالی ہی، تبھی ایک جوڑا داخل ہوتا ہے۔ ایسے میں آپ کیا کریں گے؟ اگر آپ ہوا کو پڑھ سکتے ہیں تو آپ کھڑے ہو جائیں گے تاکہ وہ دونوں ساتھ بیٹھ سکیں۔

اس ہنر کی مشق کیسے کی جائے؟

تو آپ اس ہنر میں بہتر کیسے ہو سکتے ہیں؟ خاص طور پر اگر آپ اس ثقافتی پس منظر سے واقف نہ ہوں تو؟
کیٹایاما کے مطابق خود کو دوسرے کی جگہ رکھ کر سوچنا اس کا ایک اہم حصہ ہے۔ ’یہ کوئی ایسا فن نہیں جو سیکھا نہ جا سکے۔‘
اور آپ وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتے جائیں گے۔ کووپ کہتی ہیں کہ لوگوں کو سکھانا مشکل ہے مگر ’ان پیغامات پر دھیان دیں جو بولے نہیں جاتے اور اگر کوئی چیز واضح نہ ہو تو بڑھ کر سوال پوچھیں۔‘
ثقافتی پس منظر کے بارے میں تھوڑی سی بھی معلومات کافی مددگار ہو سکتی ہیں، چاہے آپ کسی کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کر رہے ہوں یا پھر کمرے کو۔ ’بہت سی بنیادی باتیں ہیں، جیسے دوسروں کی ثقافت اور طور طریقوں میں دلچسپی لینا، ان کی عزت کرنا۔ اگر آپ دلچسپی لیں گی تو آپ ان کی کہی اور ان کہی باتیں سننے اور سمجھنے میں آسانی ہو گی۔‘

Tuesday, March 17, 2020

*Rehman Medical Institute organized video conference with Chinese team of experts, learning from their experience of managing COVID 19.*

*Rehman Medical Institute organized video conference with Chinese team of experts, learning from their experience of managing COVID 19.*


On dated 17th March 2020 RMI organized live streaming session at Rehman Medical Institute Peshawar. *Mr. Zia Ullah Bangash Advisor to CM for Science and Information Technology* and Managing Director Science and Information Technology Dr. Shahbaz Khan were the guest of honors at the session.
To equip health experts of the region with crucial practical knowledge of managing the COVID-19 outbreak, a video conference with Chinese team of health expert Professor Wu-Zhang Wang, HOD of both Medical Imaging Dept, Respiratory and Critical Care Medicine Dept, Shandong Provincial Chest Hospital is one of the designated recipient hospitals of coronavirus patients. There was live interaction between team of RMI experts, along with representatives of Lady Reading Hospital, Prime Hospital, Shifa international hospital. Advisor to CM for Science and Information Technology and Managing Director Science and Information Technology Dr. Shahbaz Khan was also joined the meeting and participated in the interaction. As a team, RMI learnt a lot from the Chinese team experience and will try to adopt their policies at hospital level. Recommendations from the interaction will be forwarded to the participants and KP government, which are going to contribute to the national cause of fighting COVID19 infection in Pakistan.
According Chief guest of the event Mr. Zia Ullah Bangash, today was informative session held in RMI which was beneficial for our region doctors community, they shared their experience and inform our doctors community how to manage the crucial situation in the region, Government of Khyber Pakhtunkhwa already took major steps to control this covid-19, we also have in our plan that our doctor should have interaction with Chinese experts doctors because on ground reality the said virus disease started from Wuhan city of PR of China.
In Pakistan Covid-19 is in initial stage so we can control by avoiding public gatherings and follow all instructions issued by the Government. He further added that KP Govt already adopted the same protocol for Covid-19 which Chinese experts shared with us in today’s session.
Dr. Mukhtiar Zaman Head of Pulmonology department RMI said that today’s session was very informative and helpful in combating the fight against corona, the practical and to the point knowledge shared by Chinese experts will be implemented in the hospitals. Such events should be regular practice regarding the preventions, treatment and diagnosis of the Covid-19.
Every hospital needs to established fever clinic in entrance of the gate, a dedicated staff should screen temperature of each person and sanitized the visitor’s hands.