Tuesday, March 17, 2020

*Rehman Medical Institute organized video conference with Chinese team of experts, learning from their experience of managing COVID 19.*

*Rehman Medical Institute organized video conference with Chinese team of experts, learning from their experience of managing COVID 19.*


On dated 17th March 2020 RMI organized live streaming session at Rehman Medical Institute Peshawar. *Mr. Zia Ullah Bangash Advisor to CM for Science and Information Technology* and Managing Director Science and Information Technology Dr. Shahbaz Khan were the guest of honors at the session.
To equip health experts of the region with crucial practical knowledge of managing the COVID-19 outbreak, a video conference with Chinese team of health expert Professor Wu-Zhang Wang, HOD of both Medical Imaging Dept, Respiratory and Critical Care Medicine Dept, Shandong Provincial Chest Hospital is one of the designated recipient hospitals of coronavirus patients. There was live interaction between team of RMI experts, along with representatives of Lady Reading Hospital, Prime Hospital, Shifa international hospital. Advisor to CM for Science and Information Technology and Managing Director Science and Information Technology Dr. Shahbaz Khan was also joined the meeting and participated in the interaction. As a team, RMI learnt a lot from the Chinese team experience and will try to adopt their policies at hospital level. Recommendations from the interaction will be forwarded to the participants and KP government, which are going to contribute to the national cause of fighting COVID19 infection in Pakistan.
According Chief guest of the event Mr. Zia Ullah Bangash, today was informative session held in RMI which was beneficial for our region doctors community, they shared their experience and inform our doctors community how to manage the crucial situation in the region, Government of Khyber Pakhtunkhwa already took major steps to control this covid-19, we also have in our plan that our doctor should have interaction with Chinese experts doctors because on ground reality the said virus disease started from Wuhan city of PR of China.
In Pakistan Covid-19 is in initial stage so we can control by avoiding public gatherings and follow all instructions issued by the Government. He further added that KP Govt already adopted the same protocol for Covid-19 which Chinese experts shared with us in today’s session.
Dr. Mukhtiar Zaman Head of Pulmonology department RMI said that today’s session was very informative and helpful in combating the fight against corona, the practical and to the point knowledge shared by Chinese experts will be implemented in the hospitals. Such events should be regular practice regarding the preventions, treatment and diagnosis of the Covid-19.
Every hospital needs to established fever clinic in entrance of the gate, a dedicated staff should screen temperature of each person and sanitized the visitor’s hands.

Chitral Chashma Road Work Start


سی اینڈ ڈبلیو ان ایکشن۔ میڈیا میں خبر آنے پر  محکمہ سی
اینڈ  ڈبلیو نے چترال ائیرپورٹ روڈ پر بہتا ہوا پانی بند کرکے سڑک کی مرمت شروع کردی۔
چترال(نامہ نگار)  چترال ائیرپورٹ، گرم چشمہ روڈ پر کئی دنوں سے پانی بہہ رہا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف اس سڑک پر چلنے والے راہ گیروں کو مشکلات کا سامنا تھا  بلکہ پانی کی وجہ سے سڑک بھی تباہ ہورہا تھا اور دریا کی جانب اس کی کٹائی ہورہی تھی۔ چترال کے مقامی صحافی گل حماد فاروقی نے  اس سڑک کے بارے میں میڈیا میں خبر چلایا جس پر حکومت نے ایکشن لیتے ہوئے فوری طور پر اس سڑک کی مرمت کا کام شروع کیا۔
محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (مواصلات) کے ایگزیکٹیو انجنئیر عثمان یوسف شنواری نے  فوری طور پر ٹھیکدار کو  کام پر لگایا۔  کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں پہلے سب انجنئیر  خالد بشیر نے بتایا کہ ایکسئین  نے ان کو ہدایت کی کہ اس سڑک پر بہتا ہوا پانی کو فوری رکوادیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فی الحال  سڑک کے بیچ میں پائپ رکھا جس کے اندر سے پانی بہہ کر سڑ ک کو بچایا جائے گا اور بعد میں اس کا ٹنڈر ہونے کے بعد چیو پل سے ائیر پورٹ تک سڑ ک کو تارکولی بنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ چیو پل کے قریب  یہ سڑک پچھلے سال دریا میں گر چکا تھا جو نہایت حطرناک تھا اور اس سے قدرے فاصلے پر دو سال قبل بھی اسی طرح سڑک  ٹوٹنے کی وجہ سے  ایک مسافر گاڑی دریا میں گرگیا تھا جس میں نو لوگ  جاں بحق ہوئے تھے۔ اسی جگہہ پچھلے سال ایک بار پھر سڑک دریا کی  جانب گر چکا تھا  جس میں ایک بار پھر بڑے حادثے کا حطرہ تھا۔ اسی صحافی نے  دو مرتبہ اس حطرناک جگہہ پر  میڈیا میں خبر چلایا جس پر پانچ مہینے بعد کاروائی ہوئی اور اس کی بھی مرمت کا کام شروع ہوا۔ اس حطرناک جگہہ پر میڈیا میں بار بار خبر چلانے کا واحد مقصد یہ تھا کہ کہیں ایک بار پھر خدا نحواستہ اس میں مسافر گاڑی گر کر قیمتی جانیں ضائع نہو۔
چترال کے عوام نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے موجودہ ایگزیکٹیو انجنئر عثمان  شنواری کا شکریہ ادا کیا کہ چلو دیر آئد درست آئد۔ کم از کم اس حطرناک جگہہ کی مرمت کرکے انسانی جانوں کو بچانے کی کوشش تو کی گئی۔ امید ہے کہ صوبائی حکومت بھی بہت جلد اپنا وعدہ پورا کرکے چترال کی خوبصورتی کیلئے بیوٹی فیکیشن آف چترال کے  نام پر جو پچاس کروڑ روپے کا اعلان کیا گیا تھا اس وعدے کو عملی جامہ پہنا کر چترال کی سڑکوں کی مرمت اور پحتگی کے ساتھ ساتھ دریا کی جانب سڑک کے کنارے حفاظتی دیواریں مظبوط قسم کی تعمیر کرائیں گے تاکہ سیاح دریا میں گرنے سے بچ جائے۔

Chitral Chashma Road Report



چترال ائیر پورٹ  اور گرم چشمہ روڈ پر دن رات  پانی بہنے
 سے سڑک تباہ ہورہا ہے، کوئی پرسان حال نہیں۔
چترال(گل حماد فاروقی)  چترال کی مصروف شاہراہ ائیرپورٹ، گرم چشمہ، چترال یونیورسٹی، پولیس لائن اور کئی سرکاری و غیر سرکاری اداروں کا واحد سڑک  یعنی گرم چشمہ سڑک پانی بہنے سے تباہ ہورہا ہے۔ اس سڑک پر چیو پل کے قریب قریبی پہاڑی سے پانی بہتا چلا آرہا ہے جو سڑک  سے گزرتے ہوئے دریائے چترال میں گرتا ہے اور سڑک بھی دریا میں گرنے کا حطرہ ہے۔
اسی جگہہ میں دس میٹر کے فاصلے پر سڑک دریا میں گرا تھا جس میں دوسال قبل ایک مسافر جیپ گرنے سے نو افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے بعد اس جگہہ دوبارہ سڑک دریا میں گر گیا۔ ہمارے نمائندے  نے دو مرتبہ اسے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اس پر رپورٹ  پیش کرکے حکام کے توجہ میں لایا جس پر ابھی چھ ماہ بعد کام شروع ہوا مگر اس کے ساتھ ہی ایک اور جگہہ پانی سڑک پر بہہ کر دریا میں گرتا ہے جو سڑک کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ سڑک بھی دریا میں گر جائے۔
اس سڑک پر گزرنے والے ایک ڈرائیور  قیوم سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو یعنی  کمیونیکیشن اینڈ ورکس نے یہاں  پہاڑ کے دامن میں پحتہ نالی بنانے کیلئے ٹھیکہ دیا۔ ٹھیکدار نے کھدائی کرلی پیسے لے لئے مگر محکمہ C&W کے پاس سمینٹ کی نالی بنانے کیلئے پیسے نہیں تھے دوبارہ ٹھیکدار کو ادایگی کی اور نالی پر مٹی ڈال کر اسے بند کرایا۔  دو مرتبہ پیسے خرچ ہوئے مگر  نالی نہیں بن سکی۔
ایک راہ گیر سعید اللہ نے بتایا کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے زیادہ تر روڈ کولی اور ہلکار گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں مگر ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
سردار ولی بھی اسی سڑک سے گزرتا ہے ان کا کہنا ہے کہ گرم چشمہ روڈ پر چیو پل سے لیکر گرم چشمہ تک محتلف مقامات پر سڑ ک پر پانی بہتا ہے جس سے تارکولی سڑک تباہ ہوتا ہے مگر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو اتنی توفیق نصیب نہیں ہوئی کہ کم از کم سڑک پر بہنے والی پانی کو روک سکے۔
انہو ں نے بتایا کہ موجودہ حکومت تبدیلی کے دعوے تو بہت کرتے ہیں مگر ہم نے کوئی تبدیلی نہیں دیکھی حاص کر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے روڈ کولی کئی سالوں سے یا تو گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں یا افسران کے گھروں کو میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے تبدیلی سرکار سے اس سڑک کی فوری حفاظت، مرمت اور تعمیر کا مطالبہ کیا۔